115

جس طرح سے دیمک لکڑی کو کھاجاتی ہے….تنہائی کا احساس بھی انسان کو اندر سے ختم کردیتا ہے.

آج ہم بات کرینگے. ہمارے اردگرد موجود ٹیکنالوجی کی. کیونکہ حقیقت میں ہم ہر طرف سے ٹیکنالوجی میں جکڑے ہوئے ہیں. ہماری ہر چیز اور ہر عمل میں ٹیکنالوجی ہی ٹیکنالوجی ہے.
جی ہاں آج کے دور میں ہم سب ایک ٹیکنالوجی کی دنیا میں گم ہوگئے ہیں. جس میں اگر ہمارے میں موبائل میں ہلکی سی vibration بھی ہوتی ہے. تو ہم سارے کام چھوڑ چھاڑ کر موبائل فون کو ہاتھ میں لے لیتے ہیں.

اوہ اب کس نے لائک کیا.
اوہ اب کس کا نوٹیفیکیشن آیا ہے.
اوہ میری post کے تو اتنے سارے views آگئے.
جب ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ تو اس وقت dopamine نامی chemical release ہوتا ہے. جو کہ ہمارے ذہن کو ایک خوشی کا احساس دیتا ہے.

یہی chemical الکوہل, گیمبلنگ اور نیکوٹین کے استعمال کے وقت بھی release ہوتا ہے. جس سے انسان ان تمام چیزوں کا addict ہوجاتا ہے. اور پھر اسکے لئے ان چیزوں سے دور جانا آسان نہیں ہوتا.
یاد رکھیئے ان تمام چیزوں کی addiction بہت خراب ہوتی ہے. اور یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔ تو وہ پھر انہی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں.
یہی ٹیکنالوجی کہ معاملے میں بھی ہے.
آج جس طرح سے relationships خراب ہورہے ہیں. اس کی بڑی وجہ بھی ٹیکنالوجی ہے. کپلز موبائل فونز پر لگے رہتے ہیں. مگر آپس میں بات چیت نہیں کرتے اور جب بات کرتے ہیں. تو ایک دوسرے سے ہمیشہ argue کرتے ہیں. کہ نہیں تم غلط ہو. میں صحیح ہوں.

اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ. موبائل فون پر ایک آرٹیفیشل گڈ کپل کا status دیکھ کر. وہ بھی پھر یہی چاہتے ہیں کہ اُن کا پارٹنر بھی ویسا ہی ہو. یہی وجہ ہے کہ پھر اُن کا relationship خراب ہوجاتا ہے. یا تو وہ مکمل طور پر دور ہوجاتے ہیں۔ یا پھر ساتھ رہتے ہوئے بھی۔ ایک دوسرے سے بات کرنا پسند نہیں کرتے.
اگر ٹینالوجی کے متاثرین کا ratio نکالا جائے. تو اس سے سب سے زیادہ متاثر بچے اور نوجوان ہوئے ہیں. اور اس کے پیچھے۔ اُن کے والدین کا بہت بڑا role ہے. کیونکہ اُن کے والدین بھی ہر وقت موبائل میں لگے رہتے ہیں۔ اور جب بھی بچے اُن کو ذرا سا تنگ کرتے ہیں. تو وہ اس کے ہاتھ میں موبائل فون پکڑا دیتے ہیں. وہیں سے اُن کی life کی destruction شروع ہوتی ہے.

وہ پھر تمام لوگوں سے دور ہوتے جاتے ہیں. اور ایک atrificial world میں enter ہوجاتے ہیں. چونکہ اُن کے پاس کوئی بات کرنے والا نہیں ہوتا. تو اُن کو ایسا لگتا ہے کہ دنیا کو اُن کی ضرورت نہیں رہی. یا پھر کوئی اُن سے شاید پیار ہی نہیں کرتا. اسی لئے وہ depression میں چلے جاتے ہیں. اور end میں وہ خودکشی کرلیتے ہیں.
یاد رکھیں اس سب کے پیچھے اُن کے parents کا بہت بڑا role ہوتا ہے. کیونکہ وہ اپنے بچوں کو someone special فیل بھی کرواتے ہیں. کہ اگر last بھی آگئے تو کیا ہوا. آپ ہمیشہ سے ایک winner ہو. اور اگر اُن کے بچے کسی چیز کی demand کردیں. تو وہ اس چیز کو فورا سے بچوں کے سامنے حاضر کردیتے ہیں. کہ کہیں اُن کا بچہ کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوجائے. میرا کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ parents غلط کررہے ہیں.
اپنے بچوں سے پیار کریں. مگر اُن کو اپنے بچوں کو ہر چیز پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کرنی چاہیئے. بلکہ اُن کی up bringing پر دھیان دینا چاہیئے. کہ وہ سوچتے کیا ہیں. وہ موبائل میں کیا دیکھتے ہیں. اُن کے ذہن میں کیا چلتا ہے. یہ بھی دیکھیں۔ کہ کہیں وہ اپنے بچے کو خود سے دور تو نہیں کررہے. کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی بھی لوٹ کر واپس نہیں آتا.
اور پھر ایسے بچوں کے ماں باپ کو. اُن کے بچوں کی خودکشی کی اطلاع بھی۔ سوشل میڈیا سے ہی ملتی ہے.

یہاں ہمیں یہ سوچنے کی بھی ضرورت ہے کہ. اس ٹیکنالوجی نے ہمیں ہمارے اردگرد کے لوگوں سے کتنا دور کردیا ہے. کیونکہ جس طرح سے دیمک لکڑی کو کھاجاتی ہے. اسی طرح سے تنہائی کا احساس بھی انسان کو اندر سے ختم کردیتا ہے.
یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں رہنے والوں کے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں تو بہت سارے دوست اور followers ہوتے ہیں. مگر حقیقت میں اُن کے پاس بات کرنے کیلیئے ایک انسان بھی نہیں ہوتا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں