90

خصوصی بچے : تعریف، اقسام، اور معاشرے میں درپیش مسائل

اللہ تعالٰی نے دنیا میں اربوں انسان پیدا کیے. ہر انسان دوسرے انسان سے شکل و صورت ، عادات و اطوار اور صلاحیتوں میں مختلف ہے. ان اختلافات کے ساتھ ساتھ لوگوں میں کرداری اور ذہنی اختلاف بھی پایا جاتا ہے. لیکن جب یہ اختلاف حد سے بڑھ جا تا ہے توایسے بچوں اور افراد کو نارمل سے نکال کر ابنارمل کی فہرست میں ڈال دیا جاتا ہے.
ابتداء میں ایسے بچوں کو پاگل، لنگڑا، اور بہرا جیسے ناموں سے پکارا جاتا تھا. بعدازاں ان کو خصوصی بچے اور خسوصی افراد کے نام دیے گئے.۔

خصوصی بچے

عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ خصوصی بچہ وہ ہوتا ہیں جو ابنارمل یا پاگل ہو۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ بچہ جسے سیکھنے ،جذبات کو قابو کرنے میں دشواری ہو، یا جسے کوئ جسمانی معذوری ہو خصوصی بچہ کہلاتا ہے۔ بعض اوقات کچھ بچے بہت ذیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ ایسے تمام بچوں کی ضروریات اور صلاحیتیں عام بچوں سے وا ضح طور پرمختلف ہوتی ہیں۔

ایسے بچوں کو خصوصی تعلیم اور خاص تر تیب شدہ پروگراموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے پروگرام جو ان کی معذوری اور روزمرہ کی ضروریات میں معاون ثابت ہوں۔

خصوصی بچوں کی اقسام

 ماہرین نے خصوصی بچوں کی معذوری کو مندرجہ ذیل چھوٹی اور بڑی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ یہ معذوری کم سے لے کر شدید درجہ تک ہو سکتی ہے۔

بڑی اقسام

(mentally retarded) ذہنی معذور

وہ بچے جو ذہنی طور پر معذور ہوں۔ جن کی سوچنے سمجھنے، مسائل کا حل تلاشنے کی صلاحیتیں اپنی عمر سے پیچھے ہوں۔ ایسے بچے قائدانہ صلاحیتوں سے محروم ہوتے ہیں۔شدید ذہنی معذوری کا شکار بچے مکمل طور پر دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔

(physical disabled) جسمانی معذور

وہ بچے جو ذہنی طور پر تو ٹھیک ہوں پر جسمانی طور پر معذور ہوں ۔ مثلاً ہاتھ سے محروم یا ٹانگ سے، جس کے باعث وہ چلنے پھرنے اور دیگر کام کرنے سے معذور ہوتے ہیں۔

(learning disabled) سیکھنے میں نااہل

یہ ایک ایسی معذوری ہے جس میں بچے کی سیکھنے، سمجھنے، بولنے، لکھنے، ریاضی کے اصول سمجھنے، اور توجہ دینے کی صلا حتیں کم یا شدید متاثر ہوں۔

(visually impaired) بصارت سے محروم

وہ بچے جو مکمل یا جزوی طور پر بصارت سے محروم ہوں۔

(hearing impaired) سماعت سے محروم

وہ بچے جو مکمل یا جزوی طور پر سماعت سے محروم ہوں۔ ایسے افراد کے لئےمختلف قسم کے آلات موجود ہیں جو ان کے روزمرہ کی زندگی میں معاون ہوتے ہیں۔

دیگر اقسام

(communication disorder) ابلاغ کی خرابی

(gifted children) فطین بچے

(behavioral and emotional disorder) جذباتی مسائل

(multiple disabilities) زائد الاقسام معذوریاں

(health issues) صحت کے مسائل

یہ بھی پڑھیں 14 مئ Apraxia سے آگاہی کے عالمی دن پر جانیے ایس ایل پی مومی سے

خصوصی بچے اور والدین کا رویہ

والدین کے لئے ہر بچہ خاص ہوتا ہے۔ لیکن وہ بچے جو کسی افزائشی کمی کے ساتھ ہوتے ہیں، انہیں خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ خصوصی بچوں کی جانب ہر معاشرے میں خاص کر ترقی پزیر ممالک میں والدین کا روئیہ انتہائی منفی ہوتا ہے۔ عام طور پر جس خاندان میں خصوصی بچہ پیدا ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش خاندان کے لئے ایک شدید دھچکا ہوتی ہے۔

اگر بچہ شدید معذوری کا شکار ہوتو والدین کے ذہن میں مختلف سوالات جنم لیتے ہیں

 انہی کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟

یہ کیوں معذور ہے؟

 ان کے کونسے گناہ کی سزا ہے؟

ان بچوں کو عذاب اور گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر بچے کی معذوری شدید قسم کی نہ ہو تو تب بھی والدین کا روئیہ مادرانہ اور پدرانہ شفقت کی بدولت شدید منفی نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں والدین مندرجہ ذیل مراحل سے گزرتے ہیں۔

(grief) شدید غم

ہر ماں باپ کی اپنے بچے سے متعلق خواہشات اور خواب ہوتےہیں۔ لیکن اگر بچہ کسی معذوری کے ساتھ ہو تو ان کی ساری توقعات اور خواہشات اس خبر کے ساتھ چکنا چور ہو جاتی ہیں، اور وہ شدید غم کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔

(denial) انکار

غم کی وجہ سے والدین انکار کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ وہ اس بات کو ماننے سے انکاری ہوتے ہیں کی ان کا بچہ معذور ہے۔

(depression) ذہنی دباؤ

والدین کے لئے یہ سوچ ہی شدید ذہنی دباؤ اور خلفشار کا باعث ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معذور ہے، اور زندگی بھر کے لئے دوسروں کا محتاج ہے۔ بچے کا مستقبل اور معاشرے کا خوف انہیں شدید ذہنی دباؤ کا شکار بنادیتے ہیں۔

(guilt) شرمندگی

اکثر والدین اور خاندان خصوصی بچوں کی پیدائش کو گناہ تصور کرتےہیں۔ ان کے مطابق بچے کی معذوری ان کے کسی گناہ کا نتیجہ ہے۔ ان بچوں کی معذوری کو ایک گناہ کی طرح چھپایا جاتاہے۔ اس بچے کی پیدائش کو باعث شرمندگی بنا دیا جاتا ہے۔

والدین کے یہ روئیے بچے کی زندگی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اکثر کم درجے کی معذوری کا شکار بچے توجہ اور خاص ترتیب شدہ پروگراموں کی مدد سے معاشرے میں خودانحصار زندگی گزار سکتے ہیں۔ لیکن والدین کے ڈروخوف، اور غم وغصےکی وجہ سے اکثر بچے ان پروگراموں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اکثر گھرانوں میں خصوصی بچوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کو سب سے الگ رکھا جاتا ہے، جس سے ان کی خودی اور خوداعتمادی کو گہرا نقصان پہچنتا ہے۔

اس کے برعکس کچھ والدین حد سے زیادہ تحفظ دے رہے ہوتے ہیں۔ ایسے والدین بچے سے زیادہ بچے کی معذوری پر دھیان دیتے ہیں۔ چاہے اس کی وجہ والدین کا اولاد کی جانب پیار ہو، ترس ہو، یا پھر عدم آگاہی اور شعور کی کمی ہو، بچے کی زندگی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

ضرورت سے زیادہ تحفظ کی وجہ سے نہ صرف معذوری میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بچے کی صلاحیتیں اور خود اعتمادی بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ ضرورت سے زیادہ تحفظ بچے کو نہ صرف سماج سے علیحدہ کرتی ہے بلکہ اس کی سماجی آزادی اور سرگر میوں کو بری طرح مجروح کرکے ان میں نفسیاتی اور جسمانی مسائل کی وجہ بنتی ہے۔

 خصوصی بچوں کے معاشرتی مسائل

خصوصی بچوں کو ہر معاشرے میں چاہے وہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، منفی روئیوں کا سامنا ہے۔ عام طور پر ایسے افراد کو معاشرے میں عدم قبولیت، اور غیر حقیقی توقعات کا سامنا ہے۔ خصوصی بچوں کو اپنے ہم عمر نارمل بچوں کی جانب سے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ والدین خود اینے بچوں کو خصوصی بچوں سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہیں۔ اور یہی وہ طبقہ ہے جسے معاشرے میں سب سے زیادہ دیوار سے لگایا جاتا ہے۔

ان کی معذوری کو خاص کر ترقی پذیر ممالک میں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ ان کو حقارت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔ اور بعض معاشروں میں ایسے بچوں کے خاندان کا بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے، جو نا صرف بچے بلکہ پورے خاندان کی سماجی اور نفسیاتی زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ کچھ والدین سماجی دباؤ کا شکار ہوکر اپنے بچوں کو گھروں میں قید کردیتے ہیں۔ نا صرف یہ بلکہ ان کے ساتھ سے بھی کتراتے ہیں۔

خصوصی بچوں کو تعلیم کے میدان میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ دورحاضر میں خصوصی بچوں کے لئے دنیا بھر میں آگاہی پروگرام اور اسکولوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن آج بھی تیسری دنیا کے کئی ممالک میں ان بچوں کے لئے کوئی اسکول اور تعلیمی مواقع موجود نہیں ہیں۔ اور جو خصوصی بچےعام اسکولوں میں جاتے ہیں انہیں نارمل بچوں کی جانب سے تنقید و تزہیک کا سامنا ہے۔

نا صرف تعلیمی میدان بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ان افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی بچہ تعلیم حاصل کر بھی لے تو اسے نوکری نہیں دی جاتی۔ ان کی معذوری کو وجہ بنا کر ان کی قابلیت کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ ان افراد کو اپنی معذوری کے باعث نقل و حمل میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

حرف آخر

،بحیثیتِ انسان ہمیں ایسے افراد کو تنقید کا نشانہ بنانےاور اللہ کی تخلیق میں نقص نکالنے کے بجائے ان کو معاشرے میں آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مدد کریں۔ معاشرے میں موجود رکاوٹیں کم کریں اور ان کو منفرد ہونے کا احساس دلائیں۔

بہت سے ایسے ادارے بھی ہیں جو اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ منفرد خاصیت رکھنے والے خصوصی فراد اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طریقے سے استعمال کرسکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں