306

ملکی معیشت کو خطرہ بڑھتی ہوئی آبادی پر کیسے قابو پایا جائے؟

دنیا کہ کسی بھی ملک میں سب سے بڑا معاشی مسئلہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ ملک کی معاشی ترقی پر نظرثانی کرنے سے قبل آبادی کی شرح کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی معاشی ترقی کی سب کے بڑی رکاوٹ بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔

ملک کی معیشت کو خطرہ؟

پانچوے نمبر پر آنے والا ملک:

پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آتا ہے اور اس وقت پاکستان کی آبادی222 ملین ہے. تجارتی معاشیات کی تازہ ترین مردم شماری اور تخمینے کے مطابق 2020 میں پاکستان میں کل آبادی 220 ملین افراد کا تخمینہ لگایا تھا۔ اس تخمینے کے پیش نظر 2020 میں پاکستان کو کورونا جیسی خطرناک وبا کے ساتھ ساتھ پانی، بجلی اور روزگار کے بنیادی ڈھانچے، پبلک ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم، امن و امان اور دیگر معاشرتی مسائل جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جو کہ وبا کی وجہ سے اور بھی سنگین ہوگئے۔

جو ہر بار کی طرح ملک کی معاشی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بنے اور 2021 کے آخر تک پاکستان میں کل آبادی اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 225,199,937  افراد پر مشتمل ہے۔ چنانچہ موجودہ دور کہ حالات کے جن میں ملک کورونا سے بھی لڑ رہا ہے تو ایسے میں ان مسائل کے بڑھنے کا مزید خطرہ ہے۔

ذمےدار عوامل:

پاکستان میں آبادی میں اضافے کے ذمے دار بڑے عوامل ہیں۔ جن میں خاندانی منصوبہ بندی کی عدم دستیابی، شرح پیدائش میں تیزی سے اضافہ، کم عمری کی شادیوں کا رواج، بیٹے کی ترجیح، غربت، ناخواندگی، مذہبی رکاوٹیں، عقائد، رسم و رواج، روایات اور تفریحی سرگرمیوں کی کمی ہے۔ جس میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سی ایم ایچ لاہور میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف چوہدری نے ‘The News’ سے عالمی یوم آبادی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے آبادی میں اضافے کے پیچھے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا پختہ یقین ہے کہ خدا ہر ایک کو حتیٰ کہ چیونٹی تک کو کھانا دیتا ہے۔ تو کیوں وہ اپنی فیملی کے سائز کو کم کریں؟

کون سے اقدامات اٹھائے جائیں:

ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملکی معیشت کیلیئے خطرے کا باعث ہے اور معیشت کو تباہ کررہی ہے لہذا ایسے اقدامت اٹھانے کا وقت ہے کہ جس سے آبادی کے اضافے پر قابو پایا جاسکے:

سب سے اہم حکومت کو چاہئے خاندانی منصوبہ بندی کے لئے نئی اصلاحات متعارف کروائے تاکہ آبادی کے نقصانات سے متعلق عوام میں شعور پیدا کیا جاسکے۔

ایک ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر خواتین خاندانی منصوبہ بندی سے بچوں کی پیدائش میں تاخیر اور اپنے بچوں کے درمیان وقفہ بڑھا دیتی ہیں تو آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے۔لہذا اس پر عمل درآمد کروانے کیلئے خواتین کو خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے تاکہ معیشت میں بننے والی رکاوٹ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پایا جاسکے۔

ناخواندگی بھی ایک وجہ ہے آبادی میں اضافے کی۔ چنانچہ سرکری اور نجی ادارے لوگوں کو آگاہ کرنے کی مہمات چلا سکتے ہیں کہ اگر وہ بہت زیادہ بچے پیدا کررہے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو اچھی غذا، تعلیم یا طبی سہولیات فراہم کرنے میں کس طرح قاصر ہونگے۔

پاکستان میں ہونے والے آبادی کے اضافے کو دیر سے شادی کرنے کے ذریعے سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر شادی کو قانونی طور پر بیس سال کردیا گیا تو دنیا کی آبادی میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

نتیجہ:

پاکستان کی آبادی کی شرح دنیا میں بہت زیادہ ہے ہر خاندان میں اوسطاً 3.1 بچے ہیں۔ اگر اسی شرح کے ساتھ ملک کی آبادی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے تو 2025 تک پاکستان میں آبادی کی تعداد 228 ملین ہوجائیگی۔ شرح پیدائش زیادہ ہونے کی وجہ سے اگلے 20 سالوں میں شہری آبادی دوگنی ہوجائیگی جس سے نہ صرف شہری مسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کی معیشت کو تباہی کا سامنا بھی کرنا پڑیگا۔ لہذا حکومت کو معیشت کی بہتری کیلئے ایسے اقدامات کرنے ضروری ہیں جن کی مدد سے نہ صرف ملک کی معیشت کو کنٹرول میں لایا جائے بلکہ ملک کو بھی بہتری کی جانب گامزن کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں