169

سندھ کے تاریخی سیاحتی مقامات

کراچی جو روشنیوں کے شہر کے طور پر مشہور ہے بلاشبہ سندھ کا دل ہے۔ ثقافتی تنوع کے ساتھ کراچی دنیا کے مصروف ترین شہروں میں سے ایک ہے اور اس کے باشندے پاکستان کے سب سے بڑے میٹروپولیٹن شہر میں رہ کر تمام سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔

لیکن اپنے دماغ اور روح کو تازہ رکھنے کے لیے انہیں شہر کی گہماگہمی سے دور ایک گزرگاہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

سندھ کے چند تاریخی سیاحتی مقامات درج ذیل ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ آپ انہیں ایک دن کے مختصر وقت میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

مکلی کا قبرستان

یہ مقام کراچی شہر سے اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے اور یہ دنیا بھر کے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے جو ٹھٹھہ کے قریب 10 مربع کلومیٹر کے علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔

تصوف اور اولیا کے بارے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو اس جگہ ضرور آنا چاہیے۔ فوٹوگرافی میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو مکلی ضرور دیکھنا چاہیے کیونکہ یہاں غالباََ سترویں صدی میں ہاتھ سے بناۓ گۓ مٹی اور چونے کے پتھر سے بنے مقبرے ہیں جن پر خوبصورت نقش و نگار بناۓ گۓ ہیں۔

pic courtesy: trip advisor

مسجدِ شاہ جہاں (جامع مسجد ٹھٹھہ)

شاہ جہاں مسجد کراچی سے 100 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جسے ٹھٹھہ شہر میں عموماََ جامع مسجد ہی کہا جاتا ہے۔ مغل بادشاہ شاہ جہان نے یہ مسجد ٹھٹھہ کے لیے اظہارِ تشکر کے طور پر تعمیر کی اور یہ 100 گنبدوں والی دنیا کی واحد مسجد ہے۔

پورے جنوبی ایشیاء میں یہ واحد مسجد ہے جہاں ٹائل کے کام کی سب سے وسیع نمائش ہے جن پر خوبصورت نقش نگاری اور ایرانی کاشی کاری کی گیئں ہے۔

سہون
سہون کراچی سے تقریباََ 4 گھنٹے کے فاصلے پر ضلع جامشورو میں واقع ہے۔ یہ لال شہباز قلندر کے مزار کی وجہ سے مشہور ہے۔ ویسے تو لوگ پورا سال ہی یہاں آتے ہیں لیکن عقیدت مندوں کے لیے یہ جگہ لال شہباز کے عرس کے موقع پر بہت زیادہ اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔

رانی کوٹ قلعہ

رانی کوٹ کا خوبصورت قلعہ کراچی سے 200 کلو میٹر دور چار گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ اسے سندھ کی عظیم دیوار کے طور پر بھی جانا جاتا ہے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے۔

یہ کیرتھر کے پہاڑی سلسے کے ارد گرد پنکھوں کی مانند 32 کلومیٹر کے علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ رانی کوٹ کا قلعہ ایک تھکا دینے والے دن کا افق پر غروبِ آفتاب کو دیکھتے ہوۓ اختتام کرنے کی ایک بہترین جگہ ہے۔ انسٹاگرام کی تصویروں کے قابل یہ دم بخود کر دینے والے مناظر آپ کے منتظر ہیں۔

یہ تمام مقامات تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ قیمتی اثاثے بھی ہیں۔ کراچی کے باشندوں کو ان دلکش مقامات پر جانے کا موقع نہیں کھونا چاہیے اور انہیں محفوظ رکھنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہمارے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں