107

پاکستان کی سب سے خوبصورت مساجد!!!

بلا شبه پاکستان تنوع اور ثقافتی ورژے سے بھرا ہوا ہے۔ آزادی سے پہلے پاکستان میں مختلف حکمرانوں جیسے کہ مغل بادشاہوں اور برطانوی استعمارکی حکومت رہی۔ ملک بھر میں بہت سی خوبصورت مساجد، قلعے اور قومی یادگاریں ایک دلچسپ اور پیچیدہ تاریخ پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ دنیا بھر میں مساجد اسلامی عقائد کی بنیاد ہیں۔

پاکستان کی چند خوبصورت مساجد درج ذیل ہیں:

pic courtesy : tripadvisor website

فیصل مسجد

ایک ترک معمار نے فیصل مسجد کو ایک بیڈوین کے خیمے کی طرح ڈیزائن کیا ھے۔ فیصل مسجد اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں کے خوبصورت دامن میں واقع ہے۔ اس کا نام سعودی حکمران شاہ فیصل کے نام پر رکھا گیا ہے۔

اس شاندار مسجد کے اطراف میں چار ترک طرز کے مینار ہیں۔ مسجد میں پورٹیکو کے ساتھ سنگِ مرمر کا وسیع صحن موجود ہے۔ فیصل مسجد کے گنبد کا غیر روایتی ڈیزائن اسے دوسری مساجد سے مختلف بناتا ہے۔

اس خطے میں پہلی بار آنے والے سیاحوں کے لیے فیصل مسجد ایک انتہائ پر کشش جگہ ہے جسے وہ اپنے پاکستان کے دورے پر لازماََ دیکھنا چاہتے ہیں۔

pic courtesy: trip advisor

مسجدِ طوبیٰ

طوبیٰ مسجد جسے گول مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1969 میں کراچی میں تعمیر کی گئ۔ گول مسجد ایک گنبد والی مساجد میں دنیا کی سب سے بڑی مسجد سمجھی جاتی ہے۔ اس کا خاص نقشہ پاکستانی معمار ڈاکٹر بابر حمید چوہان نے تیار کیا۔

مسجد میں داخلے پرخوبصورت فوارے ایک بڑے ہال کی جانب لے کر جاتے ہیں جس میں ایک وقت میں قریباََ پانچ ہزار لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ مسجد کے بیرونی حصے میں سفید سنگِ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس کے برعکس، اندرونی حصے کی دیواروں پر شیشے اور سلیمانی پتھر کا شاندار کام بھی قابلِ تعریف ہے۔ فینسی سج دھج نہ ہونے کے باوجود بھی یہ مسجد انتہائ خوبصورت اور شاندار دکھائ دیتی ہے۔

pic courtesy: trip advisor

مسجدِ شاہ جہاں

شاہ جہاں مسجد پاکستان کی تیسری خوبصورت ترین مسجد مانی جاتی ہے۔ یہ مسجد پاکستان میں موجود کسی بھی عمارتی ڈھانچے سے زیادہ بلند ہے۔ مغل شہنشاہ شاہ جہان نے یہ مسجد سندھ کے لوگوں کو ان کی مہمان نوازی کے بدلے میں بطور تحفہ دی تھی۔

ٹھٹھہ میں واقع اس مسجد کا بیرونی حصہ شاندار روایتی طرز کا ہے۔ ٹھٹھہ صوبہ سندھ میں واقع ہے اور اس کی حالت کافی خراب ہو چکی ہے۔ ٹوٹی ہوئ سڑکیں اور تباہ حال گھر مرمت کی کمی ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود مسجد اب تک بہت بہتر حالت میں ہے۔

مسجد کا بیرونی حصہ لال اینٹوں پر مشتمل ہے۔ مغل دور کی اس مسجد میں 33 محراب اور 93 گنبد ہیں جو پاکستان کی کسی اور مسجد میں نہیں دیکھے جا سکتے۔

pic courtesy: trip advisor

مسجد مہابت خان

مسجد مہابت خان پشاور میں سترویں صدی کی ایک مسجد ہے۔ اس کا اندرونی حصہ پرتعیش ٹائلوں اور پیچیدہ پینٹ کے کام پر مشتمل ہے۔ نواب مہابت خان نے اس مسجد کا نام اپنے نام پر رکھا تھا۔ انہوں نے مغل شہنشاہ شاہ جہان اور اورنگزیب دونوں کے ادوار میں خدمات انجام دیں۔

اس مشہور مسجد میں بیک وقت 14 ہزار لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے صحن میں وضو کے لیے ایک حوض بنایا گیا ہے۔ حوض کے اطراف میں کمروں کی ایک قطار ہے۔ ہال کے مغربی جانب دو اونچے مینار بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

پھولوں والے اور جیومٹریکل ڈیزائن کی بدولت، مسجد کے اندرونی حصے کو سجایا گیا ہے۔ دراصل، “محبت خان” “مہابت خان” کا غلط تلفظ ہے۔

pic courtesy: trip advisor

بادشاہی مسجد

مغل بادشاہ اورنگزیب نے یہ مسجد لاہور میں تعمیر کروائ اور آج یہ دنیا کی پانچویں بڑی مسجد ہے۔ بادشاہی مسجد لاہور میں ایک نمایاں جگہ ہے جو سیاحوں کے لیے بہت کشش رکھتی ہے۔

ان گنت مشہور اور عوامی شخصیات نے اس خوبصورت مسجد کا دورہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر پرنس آف ویلز، ڈیانا، اور حال ہی میں ڈیوک اور ڈچز آف کیمبرج پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن ان مشہور شخصیات میں شامل ہیں۔

در حقیقت کئ بھارتی فلمی ہدایت کاروں نے بھی اس کی خوبصورتی کو سراہا اور اپنی فلموں میں شامل کیا۔ بادشاہی مسجد میں محرابوں، منابت کاری اور نقش کاری کا فن حیران کن ہے۔ مختصراََ، بادشاھی مسجد ایک بہت بڑی مسجد ہے جو جنوبی ایشیاء میں دوسری سب سے بڑی مسجد سمجھی جاتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان سیاحوں کے لئے حقیقتاََ ایک جوہر کی مانند ہے اور اس کی بنیادی وجہ ہے کہ اس میں ہر طرح کا ذوق رکھنے والے سیاح کے لئے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مقامات موجود ہیں۔

پاکستان کے مذہبی مقامات پورے خطے میں اپنے روحانی مقام کے باعث  خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

https://hubdaily.com.pk/international/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%be-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a7-%da%86%d8%a7%db%81%db%8c%db%92-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba%d8%9f/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں