60

28 مئی یومِ تکبیر پاکستان۔۔ وہ دن جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا

28 مئی پاکستان کو ناقابل تسخیر بنے تئیس سال مکمل

28 مئ آج کے دن ملک بھر میں یومِ تکبیر منایا جاتا ہے۔ تئیس برس پہلے آج کے دن پاکستان دنیا میں ایک جوہری قوت بن کے ابھرا۔

آج کے دن پاکستان نے کامیاب پانچ ایٹمی دھماکے کرکے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں پانچ ایٹمی دھماکوں کے ذریعے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دیا تھا۔

28 مئی یوم تکبیر پاکستان.. وہ دن جب پاکستان باوجود تمام رکاوٹوں کے ایٹمی طاقت بنا

ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور اسی دن کو ‘یوم تکبیر’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

28 مئی یوم تکبیر پاکستان.. وہ دن جب پاکستان باوجود تمام رکاوٹوں کے ایٹمی طاقت بنا

یومِ تکبیر منانے کا مقصد ان ہیروز کی کوششوں کو سراہنا اور ان کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے، جنہوں نے ملک کے دفاع کے لئے ناقابل فراماش خدمات پیش کیں۔

یومِ تکبیر کے موقع پر اپنے ٹویٹ میں آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے کہا کہ

 23 سال قبل اس دن پاکستان نے معتبر ایٹمی رُکاوٹ کو کامیابی کے ساتھ قائم کرکے خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا۔ پاک آرمی اور تمام قوم ان عظیم لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں اس مقصد میں اپنا کردار ادا کیا۔ 

یومِ تکبیر کے موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ

 میں ان لوگوں اور اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو پاکستان کی جوہری صلاحیت کو خدمات پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے اسے ایٹمی طاقت بنا کر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا وہ ہمارے قومی ہیرو تھے

 یومِ تکبیر پس منظر

تئیس برس پہلے گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو پوکھران میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کرکے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا تھا، نہ صرف یہ بلکہ بھارت نے دھمکیوں کے ذریعے پاکستان پر نفسیاتی دباؤ بھی ڈالا۔

ایک طرف بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملے کی تیاری میں تھا تو دوسرے جانب پاکستان کو ایٹمی تجربے سے بعض رکھنے کے لئے عالمی برادری کے شدید دباؤ اور پابندیوں کا سامنا تھا۔

28 مئی یوم تکبیر پاکستان.. وہ دن جب پاکستان باوجود تمام رکاوٹوں کے ایٹمی طاقت بنا

لیکن پاکستانی سائنسدانوں اور مرد مجاہد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ان انتہائی مشکل حالات کے باوجود ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا اورملک کو جدید ترین ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں شامل کیا۔

اس وقت کے امریکی صدربل کلنٹن نے پاکستان کو پانچ بار فون کرکے دھماکوں سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ اس کے بدلے کروڑوں ڈالر امداد کی پیشکش بھی کی گئی۔

پاکستان کا جوہری پروگرام 1974 میں شروع کیا گیا تھا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹرعبدالقدیر نے 1974 میں وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو خط لکھ کرایٹمی پروگرام کے لیے کام کرنے کی پیشکش کی اور اسی سال کہوٹہ لیبارٹریز میں یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کردیا گیا۔

بھارت اور پاکستان، دونوں نے ہی پہلی مرتبہ 1998 میں 3، 3 ہفتوں کے وقفے سے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کیے تھے۔ 2014 ایٹمی مواد کو لاحق خطرات کی سیکیورٹی کے لیے اقدامات کے حوالے سے انڈیکس میں پاکستان کا درجہ بھارت سے بھی بہتر تھا۔

پاکستانی جوہری طاقت امریکہ سے بھی محفوظ

پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جوہری پراگرام امریکہ اور برطانیہ سے بھی محفوظ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت ایک سو سے زائد ایٹمی وارہیڈز رکھتا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شدید عالمی دباؤ کے باوجود تیزی سے جاری ہے۔

 ہرسال پاکستان اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں دس نئے ایٹم بموں کا اضافہ کرلیتا ہے۔ پاکستان کی اس تیزی سے بڑھتی ہوئی جوہری طاقت سے نہ صرف بھارت بلکہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک بھی خائف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں