235

لوگ مصنوعی آکسیجن کے انتظار میں….اپنے پیاروں سے دور جارہے ہیں.

قریباً ڈیڑھ سال سے پوری دنیا میں کورونا کے pandemic کا چرچا ہے. کبھی کورونا کا پھیلاؤ زیادہ ہوجاتا ہے تو کبھی کم ہوجاتا ہے. روز بہ روز کورونا وائرس میں نئی نئی قسم کی changes آرہی ہیں. یہی وجہ ہے کہ میڈیکل سائنس نے بھی اس وائرس کے آگے تقریبا گھٹنے ٹیک دیے ہیں. اور ویکسین کے لگوانے کے باوجود بھی تمام ڈاکٹرز ہمیشہ یہی کہتے ہیں. کہ احتیاط بہت ضروری ہے.

مگر جب کہیں پر احتیاط کم ہوجاتی ہے. تو اس کا نتیجہ بھی بہت بھیانک سامنے آتا ہے. اور وہی انڈیا میں بھی ہوا. انڈیا میں کورونا کو نظرانداز کرتے ہوئے. وہاں کے لوگوں نے اپنا تہوار بڑے جوش و خروش سے منایا. جس کے نتیجے میں انڈیا میں کورونا کی تیسری لہر خطرناک حد تک بگڑ گئی.

اور اس وقت انڈیا کی جو حالت سامنے آرہی ہے. اسے دیکھ کر پوری دنیا غم سے نڈھال ہے.
انڈیا میں جو موت کا منظر روزانہ سوشل میڈیا کے ذریعے سے سامنے آرہا ہے. اس نے دلوں کو دہلادیا ہے.
کہ کس طرح سے لوگ مصنوعی آکسیجن کے انتظار میں. اپنے پیاروں سے دور جارہے ہیں.
کورونا کی تیسری لہر نے ان کے health system کو تباہ و برباد کردیا ہے.

مگر ساتھ ہی ایک اچھی بات یہ ہے کہ انڈیا کی صورتحال پر. دنیا میں موجود تمام انسانیت تڑپ اٹھی ہے. کیونکہ انسانیت ایک ایسا واحد رشتہ ہوتا ہے. جو کہ رنگ, نسل اور مذہب سے پاک ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر خطہ بھارت کے مناظر کو دیکھ کر غم سے نڈھال ہوگیا ہے. چاہے وہ آسٹریلیا ہو, امریکا ہو یا پاکستان. ہر ملک سے یہی آوازیں گونج رہی ہیں کہ we are with you india.
خاص کر کہ انڈیا کا پڑوسی ملک پاکستان. جس کے ساتھ انڈیا کے تعلقات زیادہ اچھے کبھی نہیں رہے ہیں. یہ دونوں ملک ایک دوسرے سے دشمنی کئی سالوں سے نبھاتے آرہے ہیں.
مگر انڈیا کی اس صورتحال پر پاکستانی عوام کا انڈیا کیلیئے پیار 25 اپریل کو سامنے آیا. جب پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ٹوئٹ PakistanStandWithIndia ٹوئٹر پر top trend بن گئی.

یہی نہیں بلکہ تمام پاکستانی حقیقی معنوں میں انڈیا کی حالت دیکھ کر غمگین بھی ہیں اور ان کیلیئے دعاگو بھی. اس سب سے یہی پتہ چلتا ہے کہ دونوں ممالک دور ضرور ہیں۔ مگر دلوں میں ایک دوسرے کیلیئے پیار۔ آج بھی ان کے دلوں میں زندہ ہے۔
لیکن ساتھ ہی یہاں پاکستانیوں کے لئے بھی یہ وقت کچھ اچھا نہیں ہے. کیونکہ پاکستان میں بھی روز بہ روز کورونا کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے. مگر پھر بھی پاکستانی انڈیا کے حالات سے ہوش کے ناخن نہیں لے رہے.
جی ہاں دوستوں اس وقت پاکستان میں رمضان کا مہینہ چل رہا ہے. جس میں لوگ احتیاط کو عقیدے کی کمزوری اور ایمان کی کمی سے جوڑدیتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ بازاروں میں رش روز بہ روز بڑھ رہا ہے.

انڈیا میں جیسے کمبھ کا میلہ آیا۔ ایسے ہی پاکستان میں عید کا موقع بہت جلد آنے والا ہے. اس لئے پاکستانیوں کو بھی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے. آیا وہ عید پر کورونا یا اپنے دوست میں سے کس کو گلے لگانا چاہتے ہیں.
آخر میں میرا یہی پیغام ہے انڈیا کے لئے. کہ ایسے موقع پر جب آپ بری طرح سے کورونا کے خلاف جنگ ہار رہے ہیں. ہر پاکستانی دل سے انڈیا کے لئے دعاگو ہے. امید کرتے ہیں کہ آپ اور پوری دنیا بہت جلد کورونا پر قابو حاصل کرلے گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں