145

ٹھیکے پر دی گیٔ13 سالہ یتیم بچی گھر سے دور مالکن کے ظلم کا شکار

وہاڑی کی جیا ظلم کا شکار

بچوں سے جبری مشقت ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ بچوں سے جبراً کام کرانا اور ان پر تشدد کرنا، اس سب کے خلاف نعرے اور ریلیاں تو بہت نکالی جاتی ہیں پر عملی کام بہت کم ہوتا ہے۔ آج بھی پاکستان میں بےشمار بچے جبری مشقت کا شکار ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں۔

ایسے بہت سے کیسز صارم برنی ٹرسٹ میں روازنہ آتے جن میں سے ہم نے حالیہ کیس کو نمایاں کیا ہے، کہ شاید اس کو جان کر لوگ معاشرے میں موجود بے سہارا اور مجبور بچوں پر ترس کھائیں اور ان کی مدد کرنے پر آمادہ ہوں۔

واضح رہے کہ صارم برنی ٹرسٹ نے بین الاقوامی سطح پر انسانی اسمگلنگ اور بچوں سے جبری مشقت کروانے پر پابندی کے لئے ناقابلِ فراموش خدمات فراہم کی ہیں۔ اور پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائی ہے۔

بھورےوالا وہاڑی، ماچھیوال گاؤں سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ جیا جو ماں اور باپ جیسی دونوں نعمتوں سے محروم ہے، کراچی میں ٹھیکے پر دی گئی اپنی مالکن کے ظلم کا شکار ہوئی۔ جیا سے نہ صرف کام کرایا جاتا تھا بلکہ اس پر جسمانی تشدد بھی کیا جاتا تھا۔

ٹھیکے پر دی گیٔ13 سالہ یتیم بچی گھر سے دور مالکن کے ظلم کا شکار

ماں باپ کے بعد جیا اور اس کی بڑی بہن اور بھائی اپنی پھپھو کے ساتھ رہنے لگے، جس کا روئیہ اپنے بھائی کے بچوں کے ساتھ قطعی ہمدردانہ نہیں تھا۔ اسی پھپھو نے جیا اور اس کے 10 سالہ بھائی اعظم رضا کو کراچی میں دو مختلف جگہوں پر ٹھیکے پر دےدیا۔ جبکہ اس کی 15 سالہ بڑی بہن اپنے گاؤں میں ہی بھٹے پر کام کرتی ہے۔جیا کے دو چچا بھی گاؤں میں ہی رہتے ہیں جن کا اپنے بھٹے کا کام ہے۔

خاتون جسے جیا باجی کہ کر پکارتی ہے، نے نہ صرف ناخنوں سے اس کا چہرہ نوچا بلکہ اس کے سر پے ڈنڈا مار کر اسے بربریت کا نشانہ بنایا۔ جیا اس وقت صارم برنی ٹرسٹ کے شیلٹر ہوم میں موجود ہے۔

جیا کا کہنا تھا کہ اگر پھپھو مجھے ٹھیک رکھے گیں تو میں واپس جاؤں گی ورنہ میں یہیں رہوں گی یا اگر میرا بھائی مل جاتا ہے تو میں اس کے ساتھ رہو گی

جیا پچھلے ڈیڑھ سال سے اپنے بھایٔ اور بہن سے نہیں ملی۔ اب تک جیا کو اس کے گاؤں واپس بھجوانے اور رشتہ داروں کو ڈھونڈنے کے لئے  کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اگر جیا واپس نہیں جانا چاہتی تو وہ شیلٹر ہوم میں رہ سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں