شہزاد نیّر 245

شہزاد نیّر سے ایک قلمی ملاقات

شہزاد نیّر دورِ حاضر کے ایک مقبول شاعر ہیں. ان کا منفرد لب و لہجہ انہیں دوسرے شعراء میں ممتاز بناتا ہے. شہزاد نیّر ایک شاعر اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ میجر بھی ہیں. آئیے ان سے کچھ گفتگو کرتے ہیں.

شہزاد نیّر

السلام علیکم. امید ہے کہ بفضلہ تعالی بخریت ہوں گے.
سب سے پہلے اپنے متعلق کچھ بتائیے.
آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے؟ تعلیم اور مشاغل وغیرہ.

میں گوجرانوالا کے نواحی گاؤں گوندلانوالا میں پیدا ہوا۔ میٹرک گاوں سے کرنے کے بعد ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں داخلہ لیا۔
ایف ایس سی کے بعد پاک آرمی میں سلیکٹ ہوگیا اور تربیت کی تکمیل پر آفیسر بنا۔
میری مزید تعلیم اس طرح سے ہے۔
ایم فل ابلاغیات ، ایم اے اردو
ڈپلوما فارسی
مشاغل میں مطالعہء ادب اور تخلیق ادب۔

کیا ادب سے لگاؤ بچپن سے ہی تھا یا کوئی خاص واقعہ اس کا باعث بنا؟

بچپن سے ہی مجھے نظمیں ، گیت کہانیاں اچھے لگتے تھے۔ اس قدر کہ جادو سا طاری ہو جاتا تھا۔
ساتویں جماعت میں تھا کہ خود لکھنا شروع کردیا۔ نظمیں غزلیں ۔

شاعری کا خیال کیونکر آیا؟

ایک دن سکول میں ٹیچر نے میری بلاوجہ پٹائی کردی۔ اتنی ٹھیس لگی کہ نظم لکھ ماری۔ پھر تو یوں لگا جیسے کوئی بند ٹوٹ گیا ہو۔ کئی نوٹ بکس شاعری سے بھر دیں۔

کیا شاعری کے علاوہ نثر نگاری سے بھی کوئی تعلق ہے؟ کن نثر نگاروں کے کام کو زیادہ پڑھتے ہیں؟

میں نے نثر میں تنقیدی مضامین کافی تعداد میں لکھ رکھے ہیں۔ کچھ رپورتاژ ہیں اور مائکرو فکشن ۔۔۔
افسانوی نثر میں قرت العین حیدر ، منٹو، عصمت چغتائی، طاہرہ اقبال، اسلم سراج الدین سمیت کئی پسند ہیں۔
غیر افسانوی نثر میں علی عباس جلالپوری، سعید ابراہیم، سبط حسن پسند ہیں۔

اپنی پہلی شاعری شئیر کیجئے.

پہلی تو نہیں، کچھ بعد کی

وہ جس دن کا مجھ سے جدا ہو گیا ہے
دریچہ مصیبت کا وا ہوگیا ہے
جو نخوت سے میری گلی میں وہ آیا
تو زخموں کا جنگل ہرا ہو گیا ہے

آزاد نظمیں لکھنا زیادہ پسند کرت ہیں یا پابند؟

آزاد نظم میں زیادہ کشش محسوس کرتا ہوں ۔ اس میں سمندر کی لہروں کی طرح کا آزادانہ تموج ہوتا ہے۔

آپ لکھتے وقت زیادہ تر کن موضوعات پر لکھتے ہیں؟

انسان ، کائنات، خدا، خالص انسانی جذبے اور سماجی موضوعات۔

آپ کے پسندیدہ شاعر کونسے ہیں؟

بہت سے ہیں۔ میر و غالب، آتش و داغ، جوش و اقبال، فیض و فراز، منیر و ندیم ۔ آجکل گل جہان، ذوالفقار عادل، اختر عثمان، شاہین عباس ، شاہد ماکلی۔۔۔۔

ابھی تک کتنی کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں؟ کون کون سی؟

برفاب، (نظمیں) 2006 ، پین ایوارڈ
چاک سے اترے وجود، 2009، پروین شاکر عکس خوشبو ایوارڈ۔
گرہ کھلنے تک، (نظمیں)
خوابشار
ان کے علاوہ 2 کتابیں انگریزی سے اردو ترجمہ بھی کی ہیں۔

کیا مستقبل قریب میں کوئی نئی کتاب آنے والی ہے؟

جی ہاں۔ مائکرو فکشن کی ایک اور نظموں کی بھی۔

موجودہ دور میں شاعری کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ بہتری کی طرف جا رہی ہے یا زوال پذیر ہو رہی ہے؟ نئے شعراء کس جگہ پر کھڑے ہیں؟
نئے شعرا میں کچھ عامیانہ و سوقیانہ انداز در آیا ہے۔ شاعری کی تہذیب متاثر ہورہا ہے۔ بات گہری نہیں بلکہ اکہری کرتے ہیں۔ زبان بھی پیاری استعمال نہیں کرتے۔
کچھ نئے شاعر اچھا بھی لکھ رہے ہیں جیسے عرفان شہود،

اپنے قارئین اور مداحوں کیلئے کوئی پیغام؟
اچھا اور معیاری ادب پڑھیں ۔ لگاتار اپنے ذوق کو رفعت دیں۔ ایسا کلام پڑھیں جو آپ کو زندگی کی سمجھ بوجھ دے اور جمالیات کی تسکین کرے۔

Shahzad Nayyar Poetry

شہزاد نیر صاحب کا بہت شکریہ کہ انہوں نے ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا. ان کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ان کی ویب سائٹ وزٹ کریں
https://shahzadnayyar.com/

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

4 تبصرے “شہزاد نیّر سے ایک قلمی ملاقات

اپنا تبصرہ بھیجیں