56

غزہ پر اسرائیلی بربریت جاری۔۔ مسلم ایٹمی طاقتوں کی شرمناک خاموشی

غزہ پر اسرائیلی بربریت جاری۔۔ مسلم ایٹمی طاقتوں کی شرمناک خاموشی

گزشتہ ہفتے سے قبلئہ اول اور غزہ کے معصوم مسلمانوں پر اسرائیلی بربریت جاری ہے لیکن مسلم ایٹمی طاقتوں کی اس پر خاموشی انتہائی شرمناک ہے۔

غزہ پر اسرائیلی بربریت جاری۔۔ مسلم ایٹمی طاقتوں کی شرمناک خاموشی
قبلئہ اول دھواں دھواں

اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اسرائیل کے اس ظلم اور بربریت پر مسلم امہ کے حکمران، ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک خاموش ہوں۔

آخر کب تک مسلم امہ کے حکمران فلسطین اور کشمیر کے نہتے مسلمانوں اور قیمتی جانوں کے ضیاں پر صرف مذمت ہی کرتے رہیں گے؟۔

غزہ پر اسرائیلی بربریت جاری۔۔ مسلم ایٹمی طاقتوں کی شرمناک خاموشی
              مسلم ممالک کی غلامی کی ایک تصویر

جمعہ سے شروع ہونے والی اس بربریت کو آج چھٹا دن ہے۔ اور اب تک کے حملوں اور جھڑپوں میں 50 سے زائد معصوم زندگیاں جن میں بچے بھی شامل ہیں ضائع ہوئیں۔ جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

غزہ میں  مستقل اسرائیلی بمباری سے ہر طرف دھواں اور قیامت صغریٰ کا منظر ہے۔ زمیں بوس عمارتوں کا ہر طرف ڈھیر ہے۔

غزہ پر اسرائیلی بربریت جاری۔۔ مسلم ایٹمی طاقتوں کی شرمناک خاموشی
غزہ کا بمباری کے بعد کا منظر

اسرائیلی فوج کی ظلم کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ہسپتال میں زیر علاج لوگوں کو بھی نہ بخشا اور ان پر چڑھ دوڑے۔ نماز پڑھتے نمازیوں کو بھی نہ چھوڑا۔

دہشت گرد اسرائیل کے وزیر اعظم نے اپنے بیان میں غزہ پر مزید بمباری بڑھانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب تمام امت مسلمہ اور مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو اسرائیل پر چڑھ دوڑنا چاہیے تھا ۔ قبلئہ اول کی ناموس اور نہتے مسلمانوں کی ڈھال بننا چاہیے تھا لیکن سد افسوس ہر جانب ایک شرمناک خاموشی تھی۔

ہماری پاکستانی فوج جو دنیا میں نمبر ون ہے۔ پاکستان جو ایک ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم جو ایک ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں صرف مذمت کے علاوہ کچھ نہ کرسکے۔ اور پاکستانی عوام ہیش ٹیگ سیف فلسطین ہی کرتے رہے۔

غزہ پر اسرائیلی بربریت جاری۔۔ مسلم ایٹمی طاقتوں کی شرمناک خاموشی

آخر کیوں مسلمان ممالک مٹھی بھر کافروں کی غلامی میں اپنی بقاء سمجھتے ہیں؟۔ کیوں صرف مذمتی بیان دے کر خاموش ہو جاتے ہیں وہ بھی صرف ایک دو ممالک؟۔

کیا ان کا صرف بیان دینا فرض ہے یا صرف اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرکے اسے بھول جانا؟۔ یا ایک او آئی سی کا اجلاس بلا کر تبادلہ خیال کر نا کافی ہے؟۔

 ہم مسلمانوں کے لیے وعید ہے کہ ظلم پر خاموش رہنا ظالم کا ساتھ دینے کے برابر ہے۔  مسلم امہ ایک جسم کی طرح ہے اگر ایک حصہ تکلیف میں ہے تو پورے جسم کو تکلیف ہونی چاہئے۔

کیوں مسلمان ممالک اسرائیل سے خوفزدہ ہیں؟ کیوں مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود بھی غلامی کی زندگی جینا پسند کرتے ہیں؟

لیکن رمضان المبارک میں مسلمانوں کے قبلئہ اول پر حملے انبیاء کی زمین پر حملے  نہتے مسلمانوں پر ظلم اور مسلم امہ کی ہولناک خاموشی ایک لمحئہ فکریہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں