127

انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پاکستانی طلباء نے حیرت انگیز کارنامہ سرانجام دیدیا

کم بجٹ میں پاکستانی طلباءنے حیرت انگیز کا رنامہ سر انجا م دے دیا۔طلباء کی جانب سے بنائی گئی مختصر فلم ” دریا کے اس پار“ نے امریکا میں ہونے والے عالمی فلم فیسٹیول میں تین بڑے ایوارڈز جیت لئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فلم کا ٹریلر جنوری میں جاری کیا گیا تھا اور فلم کو متعدد عالمی فیسٹیول میں بھجوایا گیا۔
فلم دریا کے اس پار کو نیویارک سٹی میں ہر سال ہونے والے عالمی فیسٹیول میں 6 نامزدگیاں ملی تھیں۔
تقریباً 30 منٹ دورانیے کی اس فلم نے نیویارک انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین مختصر دورانیے کی فلم، بہترین ڈائریکٹر اور بہترین مرکزی اداکارہ ( خبا عزیز ) کے تین ایوارڈز اپنے نام کیے۔

فلم کا موضوع خیبر پختونخوا کے مقبول سیاحتی مقام چترال میں خواتین کی خودکشیوں اور نفسیاتی مسائل کے حوالے سے آگاہی پر مبنی ہے۔فلم ’دریا کے اس پار‘ کو کو نگہت اکبر شاہ نے پروڈیوس کیا ہے جب کہ شعیب سلطان نے فلم کی ہدایات دی ہیں۔
شعیب سلطان نے بتایا یہ ان کا فلم ڈائریکٹ کرنے کا پہلا تجربہ تھا اور اللہ کا شکر ہے عالمی سطح پر ان کی فلم کی اتنی پذیرائی ہوئی۔ انہوں نے کہا یہ ہمارے اور پاکستان کے لیے فخر کا مقام ہے کہ ایک پاکستانی فلم نے عالمی مقابلے میں تین ایوارڈز اپنے نام کیے۔
شعیب سلطان نے مزید بتایا کہ فیسٹیول میں دنیا بھر سے 96 فلمیں مدمقابل تھیں جبکہ پاکستانی فلم نے بھارتی، میکسیکن اور امریکی فلموں کی کیٹیگری میں اپنی جگہ بنائی۔ فیسٹیول میں مختلف خصوصیات پر مبنی 15 کیٹیگریز تھیں۔
ہم نے اپنی فلم میں چترال میں خود کشیوں کے علاوہ نفسیاتی مسائل کے شکار افراد کو فوکس کیا ہے۔فلم ’دریا کے اس پار‘ گل زرین نامی ایک لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جس کا تعلق پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے دکھایا گیا ہے۔

گل زرین مختلف مسائل کا شکار ہونے کی وجہ سے شدید ذہنی پریشانیوں میں گھر جاتی ہے لیکن لوگ اس کی جانب متوجہ نہیں ہوتے۔
ایسے میں معاشرتی روایات اور رویے گل زرین کو اس حد تک ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ ایک دن وہ خودکشی پر مجبور ہوجاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں