105

ڈاکٹرگوگل۔۔نیم حکیم سے ذرا  بچ کے!

کیاآ پ بھی اکثر اپنی جسمانی و ذہنی بیماریوں کے بارے میں ڈاکٹر گوگل سے رابطہ کرتے ہیں؟

اگر ہاں تو پڑھتے رہیے

یہ حقیقت ہے کہ سرچ انجن گوگل نے زندگی میں  کافی سہولیات پیدا کیں۔ اگر آپ کچھ جاننا چاہتے ہیں تو صرف گوگل پر ٹائپ کریں اور اپنی مطلوبہ معلومات کے ساتھ دیگر اضافی معلومات بھی حاصل کریں گے۔ لیکن یہ اس وقت خطرناک ثابت ہوتا ہے جب ہم بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لئے ڈاکٹرگوگل نیم حکیم  کا استعمال کرتے ہیں  یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ کسی نیم حکیم کے پاس اپنا مرض لے کر پہنچ جائیں۔ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر کسی فرد کو کوئی بیماری ، مسئلہ ، علامت یا تکلیف ہو تو اسے  گوگل نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس عمل سے تکلیف کا تدارک   تو کم ہی ہوتا ہے بلکہ  تکلیف میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

گوگل کی تشخیص اور مجوزہ ادویات

ہم اپنی  صحت کے معاملے میں اتنے کاہل ہیں کہ ہم کسی بیماری یا علامت کی شدیدخرابی کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں۔  پہلے ہم خود تشخیص کرتے ہیں ۔ اسی سلسلے میں ہم گوگل کے نیم حکیم سے مدد لیتے ہیں اور بعض اوقات گوگل نیم حکیم ہلکے درد  کو  بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ انسان پریشانی اور تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔گوگل   لوگوں کی پریشان کن کہانیاں ظاہر کرتا ہے. وہ سب پڑھنے کے بعد  بیماری یا علامت بہت بڑھ جاتی ہے۔تو جناب پھر آپ ڈاکٹر گوگل صاحب سے ہی ادویات کے بارے میں بھی پوچھنے لگتے ہیں ۔جودوائیں گوگل پر علاج کے لئے تجویز کی جاتی ہیں وہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں مختلف ہوسکتی ہیں۔ دوا کی طاقت اور خوراک کا تعین مریض کے وزن اور دیگر بیماریوں کے بعد ماہر ڈاکٹر کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔

گوگل افسردگی کم کرنے کے بجائے بڑھاتا ہے۔

فرض کریں کہ آپ افسردہ ہیں ، آپ ناراض ہیں ، آپ سو نہیں سکتے ہیں ، آپ کے کھانے کی عادات تبدیل ہو رہی ہیں یا آپ زندگی سے تھکاوٹ محسوس کررہے ہیں۔ اس معاملے میں ، جب آپ اس بارے میں گوگل کےنیم حکیم اس افسردگی کو مختلف ہارمونز کے ساتھ جوڑ کر دکھاتے ہیں اور آ پ ایک نئی پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کسی طرح ان بگڑے ہوئے ہارمونز کو درست کیا جائے۔

گوگل سرچ پر موجود ویب سائٹ کا قابل اعتماد ہونا

گوگل پر موجودکسی بھی ویب سائٹس کا معیار اور ساکھ مختلف ہوسکتی ہے۔ آپ کا علامتی مانیٹر بہت ہائی ٹیک اور پیشہ ور نظر آسکتا ہے ، لیکن یہ انسان کی بجائے گوگل کا مشین یا علامت کی جانچ والا سافٹ ویئر ہوسکتا ہے۔ تو کیا آپ اس سافٹ ویئر یا ٹرانسلیشن مشین پر بھروسہ کریں گے جو آپ کے علامات کے مطابق آپ کی صحیح شناخت کررہی ہے؟ فیصلہ آپ کا ہے۔

تضادات کا ایک مجموعہ

گوگل  پر پوچھے جانے والے بیشتر سوالوں کے جوابات مختلف یا مخالف بھی ہوسکتے ہیں۔ در حقیقت ، گوگل پر بہت سارا مواد موجود ہے جو کسی بھی مطلوبہ الفاظ کی مماثلت کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرتا ہے ، خواہ وہ متعلقہ ہو یا نہیں ، صحیح ہے یا غلط۔ حاصل کردہ رائے اتنی متصادم ہوتی ہے  کہ اس کی جانچ پڑتال کے چکر میں آپ کو درد سر ہو جاتا ہے۔ مبالغہ کی دنیا سے بچنےکے لئے ضروری ہے کہ آپ نیم حکیم گوگل کے بجائے  کسی قابل ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

گوگل پرغلط تشخیص ممکن ہے

جب تک تشخیص درست نہ ہو ، بیماری ٹھیک نہیں ہوتی۔ آپ نے جو سوال یا علامت پوچھی ہے،ہوسکتا ہے گوگل پر  اس کا غلط جواب داخل کیا ہو گا اور اس کے مطابق نتائج آرہے ہوں۔ انسانی نفسیات کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد کسی علامات و علاج کی تلاش کرتا ہے تو وہ خود کو اس بات پر راضی کرنا شروع کردیتا ہے کہ مجھے بھی یہ ہی بیماری ہے۔گوگل کےنیم حکیم آپ کو ذہنی بیماری میں مبتلا کرسکتے ہیں ۔

ڈاکٹر کی پاس جائیں

کوئی بھی ڈاکٹر تعلیم اور تجربہ حاصل کرکے اپنے پیشے میں ماہر ہوجاتا ہے۔ وہی تجربہ کار ڈاکٹر مریض کا معائنہ کرے گا اور اس کے لئے صحیح علاج تجویز کرے گا ، ایسا نہیں کہ آپ نے گوگل پر چند سوالوں کے جواب لکھ کراپنے مرض کا شافی  علاج پاجائیں گے۔بنیادی بات یہ ہے کہ نیم حکیم  ڈاکٹرگوگل سے علاج تلاش کرنے کے بجائے ، ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ بیماری اور اضطراب سے نجات حاصل کریں۔

To read more Urdu articles please Visithttps://hubdaily.com.pk/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں