85

فوڈ الرجی کیا ہے؟؟ اور اس سے اپنے بچوں کو کیسے بچایا جائے؟؟

فوڈ الرجی بچوں کی ایک بیماری ہے جوکہ پانچ سال اور اس سے چھوٹے بچوں میں پائ جاتی ہے ۔ والدین کے لئے خصوصاً ماؤں کے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہےکہ یہ بیماری کیسے ہوتی ہے؟؟

دراصل یہ بیماری کھانے پینے کی چیزوں سے ہوتی ہے جن میں دودھ ، انڈے ، مچھلی ، گندم ، مونگ پھلی ، سویا وغیرہ شامل ہیں ۔ مزید اس کی وجوہات میں شامل ہیں :
۔ پولن فوڈ الرجی
۔ food intolerance
۔ فوڈ پوائزننگ
۔ کھانا ہضم کرنے والے enzymes کا نہ ہونا
۔ حساسیت
۔histamine toxicity وغیرہ

فوڈ الرجی اگر شدت اختیار کرجائے تو جان لیوا صورتحال بھی ہوسکتی ہے۔
اس کی علامات میں شامل ہیں :
۔متلی
۔ موشن
۔ جلد پر لال دھبے
۔ گلے میں کھنچاؤ
۔ پیٹ درد
سانس کی تنگی
۔ آنکھوں سے پانی بہنا
۔ آنکھوں میں جلن
۔ لو بلڈ پریشر
۔ بے ہوشی

بہت سارے لوگ فوڈ الرجی اور کھانے کی عدم رواداری کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں ، جبکہ یہ دونوں الگ الگ ہیں ۔ یہاں میں دونوں کا فرق واضح کردوں کہ:
کھانے کی عدم رواداری جسے food intolerance بھی کہتے ہیں اس میں انسان کا امیونٹی سسٹم انوالو نہیں ہوتا اور اس کی علامات میں شامل ہیں :
کھٹی ڈکاریں آنا
بدہضمی
گیس
ڈائیریا
سر درد
نروس ہونا وغیرہ شامل ہیں ۔
اور اس کے مریض lactose intolerant ہوتے ہیں اور یہ جان لیوا مرض نہیں ہے ۔

فوڈ الرجی جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتا ہے؟؟

جلد: مریض کے جسم پر لال دھبے نمودار ہوتے ہیں جنہیں ایگزیما کہا جاتا ہے ۔ منہ ، ہونٹ ، زبان پر سوجن پیدا ہوجاتی ہے۔ اور مریض کو جلن ہوتی ہے ۔

نظام ہضم : الٹی ، متلی ، پیٹ درد ، ڈائیریا وغیرہ
نظام تنفس: سانس کی تنگی ، کھانسی ، ناک بہنا ، چھینکیں آنا وغیرہ
نیز اس میں بےہوشی وغیرہ بھی شامل ہیں ۔

فوڈ الرجی کی ایک علامت Ananphylaxis بھی ہے ۔ جس میں مریض کو سانس لینے میں تنگی ہوتی ہے اور اگر بروقت اس کا سدباب نہ کیا جائے تو جان لیوا ہوسکتا ہے ۔

فوڑ الرجی کی روک تھام کیسے ہو؟؟

۔ماؤں کو چاہئے کہ پیدائش سے لے کر چھ ماہ تک بریسٹ فیڈ کریں ۔
۔ بچے کو ٹھوس غذا چوتھے مہینے سے شروع کروانی چاہیئے ، اس سے پہلے شروع کروانے سے بچے کے فوڈ الرجک ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں ۔
۔ ماؤں کو چاہیئے اگر وہ کوئ علامات دیکھتی ہیں بچے کے اندر تو وہ بھی پرہیز کریں کھانے پینے کی ان چیزوں سے جو الرجی پیدا کرتی ہیں ۔
۔ ریسٹورنٹ جائیں تو وہاں الرجن کارڈ مانگ سکتی ہیں آپ ۔ تاکہ پتا چل سکے آپ کے کھانے میں کونسے اجزاء ہیں جو آپ کے بچے کو الرجی کرسکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں