79

بچوں کے ذہنی مسائل اور والدین کی ذمہ داری!

جکل اکثر ایک لفظ بہت سننے میں آرہا ہے اور وہ ہے ڈیپریشن۔ عمومی طور پر اس بیماری کو بڑوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مگر میں بچوں کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گی کہ بچے بھی ڈیپریشن کا شکار ہوتے ہیں ۔ آجکل زمانہ بہت تیز رفتار ہوگیا ہے بڑے تو بڑے بچوں کے بھی ہاتھ میں ٹچ فونز ہیں – پہلے زمانوں میں جیسے باقاعدہ کھیل کھیلے جاتے تھے تو صحت بھی اچھی رہتی تھی ۔ میدانوں میں رونق لگتی تھی ، یہ سب تو اب قصہِ پارینہ بن چکا ہے اور اس میں غلطی بچوں کی نہیں ہے ۔ کچھ تو کسر ٹیکنالوجی نے پوری کی ہے اور کچھ آج کل کے ماحول نے ۔ آئے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رونما ہورہے ہیں جس نے بچوں اور بڑوں دونوں کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔
آج کل کے اتنے تیز رفتار زمانے نے جہاں بچوں کو وقت سے پہلے بڑا کردیا ہے وہیں بچوں کو مختلف مسائل سے دوچار کردیا ہے ۔ ڈیپریشن جسے عرفٍ عام میں زہنی تناؤ بھی کہا جاتا ہے آجکل بچوں میں بھی عام پایا جارہا ہے۔ جسمانی بیماریوں کی طرح زہنی بیماری یا تناؤ قابلِ علاج ہے اور جسمانی بیماری کی ہی طرح انسان کو کاؤنسلنگ اور علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔
ٰبچوں میں ڈیپریشن کی وجوھات:
– صبح ناشتہ نہ کرنا
– بہت زیادہ ویڈیو گیمز کھیلنا
– بہت زیادہ جنک فوڈ کھانا
– والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا
– بہت زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کرنا
– دوستوں کے سامنے ڈانٹنا
– حد سے بڑھی ہوئ حساسیت
– والدین کا بچوں کے سامنے جھگڑنا
– پڑھائ کی ٹینشن وغیرہ
سال ٢۰۲۰ میں کرونا کی وباء نے بچوں اور بڑوں کو گھروں تک محدود کردیا ہے ۔ بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے بھی زہنی مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ جن میں سرفہرست تنہائ پسندی، غصہ ، والدین سے بدتمیزی ، پڑھائ میں دل نہ لگنا،بھوک نہ لگنا یا حد سے زیادہ کھانا وغیرہ شامل ہیں ۔گھر میں محدود ہونے کی وجہ سے سب کا نیند کا اور کھانے پینے کا نظام بگڑ چکا ہے۔ حرکت بلکل نہیں ہے اور ساری ساری رات جاگ کر فلمیں دیکھتے ہیں اور گیمز کھیلتے ہیں اور کھاتے ہیں اور پھر پورا دن سوتے ہیں ۔
ایسی تمام علامات ضروری نہیں کہ ڈیپرشن ہی ہوں لیکن اگر ایسی علامات حد سے تجاوز کر جائیں تو ڈاکٹر سے بھی رجوع کریں اور والدین کو چاہیے کے بچے سے پیار سے پیش آیں اور اس سے اس کی پریشانی کا سبب دریافت کیجے ۔ والدین کو چاہیے کے بچوں کے ساتھ وقت گذاریں ۔بچوں کے ساتھ ان کے مسائل ڈسکس کیجیے اور ان سے اس کا حل نکالنے کو کہیے ان کی حوصلہ افزآی کیجیے ۔ بچوں کے ساتھ کتب بینی کیجیے اور ان کے ساتھ کتابوں پر تبصرہ کیجیے ۔ باغبابانی وغیرہ جیسی انڈور سرگرمیاں انجام دیجیے ۔ اس سے گھر کا ماحول بھی خوشگوار رہے گا، اور مخصوص قسم کے ذہنی تناؤ سے بھی چھٹکارہ ملے گا۔ یاد رہے زہنی تناؤ کوئ خطرناک بیماری نہیں ہے ۔ اور آپ سے بڑھ کر آپ کے بچے کا کوئ ہمدرد نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی آپ کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں