430

گھر داماد ہونا مذاق کیوں؟؟؟؟؟کنول احمد کا ڈرامہ”چپکے چپکے”پر اعتراض!

ڈرامے بنیادی طور پر کسی بھی معاشرے کی ثقافت کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ یہ معاشرت کوکہانی و کردار کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ ڈرامے کو منفی معاشرتی امور کو تبدیل کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ آج کے دور میں ڈرامہ ہماری ثقافت اور اخلاقی اقدار کو تبدیل کر رہا ہے۔
ایسے ہی ایک ڈرامہ کی نشاندہی کنول احمد نے اپنے ٹویٹ میں کی ہے۔جس میں گھر داماد کو مذاق کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جب کہ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی اس بارے میں منفی سوچ اور رویہ عام ہے۔
کنول احمد ، ایک سابق میک اپ آرٹسٹ اور خواتین کے مشہور و معروف فیس بک گروپ “سول سسٹرز پاکستان “کی بانی ہیں۔ سوشل نیٹ ورک فیس بک نے اپنے 115 “کمیونٹی لیڈروں” میں سے ایک کے طور پر سول سسٹرز پاکستان گروپ کو منتخب کیا تھاجنہوں نے لوگوں کی زندگیوں پر ایک مثبت اثر چھوڑا ہے ۔

کنول احمد نے یہ گروپ خاص طور پر پاکستانی خواتین کے لئے بنایا ہے جہاں وہ کسی خوف کے بغیر ہر بات شیئر کر سکتی ہیں۔سول سسٹرز پاکستان فیس بک کی دنیا کاایک ایسا گروپ ہے جہاں خواتین بے جا تنقید کا نشانہ بنے بغیر اپنا نقطہ نظر کھل کر بیان کر سکتی ہیں۔اس کے علاوہ کنول احمد کا یو ٹیوب چینل بھی ہے جس کا نام” کنول احمد نیٹ ورک “ہے۔

اس چینل پر بھی کنول احمد نے خواتین کو” کنورسیشن ود کنول” کے تحت ایسے موضوعات پر بولنے کی آزادی دی ہے جن پر بولنا پاکستانی معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔نہایت حساس موضوعات کو کنول احمد نے بڑی مشاقی سے احاطہ کرتے ہوئے پاکستانی خواتین کے جذبات کی صحیح عکاسی کی ہے۔
کنول احمد نے حال ہی میں ہم ٹی وی چینل کے ڈرامہ سیریل” چپکے چپکے “میں دکھائے جانے والے گھر داماد کے کردارکے خلاف ٹویٹ کر کے ایک اور حساس موضوع کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروائی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں مرد کا اپنے سسرال میں رہنا معیوب سمجھا جاتا ہے چہ جائیکہ گھر داماد بننا۔
ایسے افراد معاشرے میں بھی مذاق کانشانہ بنتے ہیں۔یہ صورت حال اس وقت نہایت گھمبیر ہو جاتی ہے جب بوڑھے والدین کی دیکھ بھال کرنے لئے ان کے پاس اولاد نرینہ نہ ہواور بیٹیاں معاشرتی رویوں کی وجہ سے بوڑھے والدین کے ساتھ آ کر رہنے سے قاصر ہوں۔
کنول احمد کے مطابق مذکورہ ڈرامہ گھر داماد کے پریشان کن دقیانوسی تصورکو تقویت دے رہا ہے۔ انھوں نے ڈرامہ سیریل “چپکے چپکے “میں ایک ایسےشخص کے کردار کا حوالہ دیا جو گھر داماد ہےاورہر وقت اپنے سسرالیوں کے مذاق کا نشانہ بنا رہتاہے ۔

انھوں نے اس صورتحال کو سول سسٹرز پاکستان گروپ کی ایک ایسی ممبر خاتون کی صورتحال سے جوڑاہے ، جنہوں نے گروپ میں سوال کیا کہ وہ اور ان کی بہن اپنے بوڑھے والدین کی دیکھ بھال کس طرح کریں جب کہ دونوں میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔


اداکار عثمان خالد بٹ ،جوڈرامہ سیریل” چپکے چپکے “میں مرکزی کرداربھی ادا کررہے ہیں ، نے اپنے ٹویٹ میں کنول احمد کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرامہ میں گھر داماد کے کردار کو محض اس لئے مذاق کا نشانہ نہیں دکھایا جا رہا ہے کہ وہ ایک گھر داماد ہے۔ عثمان کے مطابق یہ بتانا ضروری ہے کہ اس ‘گھرداماد’ نے خاندانی کاروبار میں ملازمت کی پیش کش کے باوجود معاش کے لئےکام کرنے سے انکار کردیا۔ گھر داماد کا کردار ادا کرنے والے اداکار علی سفینہ کے کام کی تعریف کرتے ہوئے عثمان بٹ نے کہا کہ” وہ اپنے کردار میں رہتے ہوئے بہت اچھا کام کر رہے ہیں”۔
عثمان بٹ کے جواب کے لئے شکریہ ادا کرنے کے بعد کنول احمد نے استدلال کیا کہ”میرا نقطہ نظر صرف یہ ہے کہ ڈرامہ میں گھر داماد کے حوالے سے دکھایا جانے والا مزاح معاشرے میں پہلے سے موجود ایک دقیانوسی اور غلط سوچ کو تقویت دے رہا ہے۔مثال کے طور پر کتنے مرد اس ڈرامہ کے بعد گھر داماد بننا چاہیئں گے؟”


کنول احمدکے اس استدلال پر عثمان بٹ نے کسی حد تک اتفاق کیامگر ساتھ ہی وضاحت کرتے ہوئے کہا”ڈرامہ کے ناطرین ضرور اس بات کو بھی محسوس کریں گے گھر داماد کی اہلیہ اس کو معاش کے سلسلے میں کام نہ کرنے کے سبب حاکمانہ رویہ کے زیر اثر رکھتی ہے نہ کہ گھر داماد ہونے کی وجہ سے”۔
یہ وضاحت بھی یقینی طور پر قاریئن کے لئے دلچسپی کا سبب ہوگی کہ ڈرامہ “چپکے چپکے “کو احاطہ تحریر میں لانے والی بھی ایک خاتون ناول نگار”صائمہ اکرم چودھری “ہیں جو اس سے پہلے بھی کئی کامیاب ڈرامے تخلیق کر چکی ہیں۔”آدھی گواہی “اور “کیسی عورت ہوں میں”جیسے ڈرامے بھی محترمہ صائمہ اکرم چودھری کے کھاتے میں موجود ہیں جن میں انھوں نے خواتین کے حقوق و مسائل کو بخوبی اجاگر کیا ہے۔
اگرچہ کنول احمد اور عثمان بٹ ابھی تک ایک مشترکہ نتیجے پر نہیں پہنچ پائے ہیں لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستانی معاشرے میں ٹی وی ڈرامہ کافی اثر پذیری رکھتا ہے اور معاشرے کا عام فرد ان ڈراموں کا اثر اپنی روز مرہ زندگی میں بھی محسوس کرتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ٹی وی اسکرینوں پر ایسے مثبت معاشرتی رویوں کو اجاگرکیا جائے جو مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بنیں اور زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے اک سبب بنیں نہ کہ معاشرے میں بگاڑ کا موجب ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں