آپ کو پتا ہونے والے پاکستانی معیشت کے اہم نکات 210

آپ کو پتا ہونے والے پاکستانی معیشت کے اہم نکات

آپ کو پتا ہونے والے پاکستانی معیشت کے اہم نکات

پاکستانی معیشت جس کی بنیاد زراعت پر تھی آہستہ آہستہ متنوع ہوتی جا رہی ہے۔ 2019 میں زراعت کا (GDP) جی ڈی پی (% 22.04 ) میں ایک چوتھائی سے تھوڑا کم حصہ تھا۔ 18.34 فیصد پیداواری صنعت سے تھی۔ معیشت کا نصف حصہ تجارت اور خدمات (Services) کے شعبے سے پیدا ہوا۔

تاریخ:
پاکستان کو اہم اسٹریٹیجک تحائف (Strategic gifts) اور قدرتی وسائل عطا ہوۓ ہیں جواعلیٰ طرقی کی صلاحیت کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ زرخیز زمین سے مالامال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ انہی علاقوں میں آباد ہے اور گنے، گندم، کپاس اور چاول جیسی فصلوں کی خرید و فروخت کرتا ہے جو دوسرے ممالک کو برآمد بھی کی جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کئی اقتصادی ماڈلز کا تجربہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں معیشت کی بنیاد نجی اداروں پر تھی۔

70 کی دہائی میں قومیت (Nationalizing) کی پالیسی نافذ کی گئی اور نقل و حمل، مالیاتی خدمات اور مینوفیکچرنگ جیسے کئی شعبے عوامی انتظامیہ کے تحت آ گۓ۔ 80 کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے دوران معیشت کا ایک اسلامی ماڈل متعارف کروایا گیا جس میں قرضوں پر سود کو روکنے اور زکوٰۃ اور عشر ادا کرنے کو لازم قرار دے دیا گیا۔

قومیت پر شدید تنقید کی گئی اور بہت سے شعبوں کو دہبارہ پرائویٹائز (Privatize) کر دیا گیا۔

پانچ سالہ منصوبے:
پہلا پانچ سالہ منصوبہ 1950 میں منظور کیا گیا تھا۔ بھاری صنعت پر توجہ، بینکنگ اور مالیاتی خدمات میں تووسیع اور صنعت کو خصوصی اہمیت دینے کے باوجود یہ پروگرام بری طرح ناکام ہو گیا۔

دوسرا پانچ سالہ منصوبہ 1960 میں ایوب خان کے فوجی دورِحکومت میں آیا۔ شاید یہ پاکستان کی تاریخ کا واحد پانچھ سالہ منصوبہ ہے جو بہتر منصوبہ بندی اور غیر ملکی امداد کے امتزاج کی وجہ سے بہت کامیاب ہوا۔

1950 سے لے کر 1999 تک کل آٹھ یا پانچ سالہ منصوبے پیش کیے گۓ جن میں سے اکثر کمزور اندتظامیہ یا سیاسی بحران کی وجہ سے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ہر آنے والے سال حکومت پچھلی حکومت کے منصوبوں کو ختم کر دیتی تھی۔ بعد میں وظیراعظم شوکت عزیز کے دورِ حکومت (2007-2004) میں پانچ سالہ منصوبوں کو دریافتی مدت کے ترقیاتی فریم ورک (MTDF) سے اپگریڈ کر دیا گیا۔

تازہ ترین اعداد و شمار:
عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تخمینوں کے مطابق 2018 میں GDP کی شرح میں 5.5 فیصد کی کمی ہوئی جو 2019 میں 1.9 فیصد رہی۔ مالیاتی سال 2020 کے لیے جنوری تا جولائی بڑے پیمانے مینوفیکچررز کی پیداوار 3.4 فیصد پو معاید کیے گیے۔

تاہم زراعت کے شعبے میں چاول اور جانوروں کے زیلی شعبوں ترقی دیکھی گئی۔ پاکستان کی آبادی کی ترقی کی سالانہ شرح 2.0 فیصد ہے۔ (1999- کل آبادی – 216 ملین)

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کی بڑھتی ہئ تعداد نہ صرف منافع کی استعداد کو ظاہر کرتی ہے کہ بلکہ یہ سہولیات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔

جولای 2019 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے اُنتالیس ماہ تک توسیعی EFF) Extended Fund Facility) فنڈ کی سہولت کے انتظام کو بڑھایا۔

اس کے تحت مجموعی طور پر مؤثر طریقے سے طلب کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مستحکم اقدامات کی توقع ہے۔ کووڈ-19 کی وجہ سے سست عالمی معاشی رفتار موجودہ مالی سال کی ترقی کو متاثر کرے گی۔ 2020 کے اختتام تک جی ڈی پی کی متوقع ترقی کی رفتار تقریباََ منفی 0.5 فیصد ہے۔

مجموعی طور پر پاکستان بدامنی، عدم تحفظ اور جغرافیہ سیاسی تناؤ کا شکار ہے۔ اس کے غیر رسمی شعبے جی ڈٰی پی کا تقریباََ 40 فیصد حصہ ہیں جس کے نتیجے میں کم ٹیکس، بنیادی ڈھانچے میں کمی، توانائی صحت، اور تعلیمی شعبوں میں ترقی کی کمی دیکھی جا سکتی ہے۔

آبادی کا بڑا حصہ زراعت پر انحصار کرتا ہے۔ پانی کی قلت اور موسم کی غیر یقینی صورتِ حال ان کی آمدنی اور کام کے طریقہء کار پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں طرقی پاتی گھریلو صنعت بھی ہے جو بیرونِ ملک گۓ کارکنان کا ملک میں اہم ترسیلاتِ زر بھیجنا ہے۔

پاکستان بڑی تعداد اور کم لاگت میں مزدور فراہم کر سکتا ہے۔ ایک اسلام دوست فنانس انڈسٹری، سیاحت کی ترقی اور سی پیک جیسے منصوبے وہ قوت ہیں جن پر حکومت ترقی کی منزل حاصل کر سکتی ہے۔

آپ کو پتا ہونے والے پاکستانی معیشت کے اہم نکات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں