کے پاکستانی معیشت پر 3 اہم اثرات CPEC 173

CPEC کے پاکستانی معیشت پر 3 اہم اثرات

CPEC کے پاکستانی معیشت پر 3 اہم اثرات:

تاریکی کی شکار پاکستانی معیشت کے لیے CPEC ایک روشن چراغ کی مانند ہے۔ اس کی مالیاتی اور اسٹریٹیجک شراکت کے باعث متعدد شعبوں جیسے کہ زراعت، خدمات اور صنعت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

اس منصوبے کے تحت پاکستان کی بندرگاہ گوادر کو چین کے شمال مغربی علاقوں سے ایک وسیع روڈ نیٹورک کے ذریعے منسلک کیا جاۓ گا۔

اعداد و شمار کے مطابق 40 ملین ڈالر سے زائد رقم زراعت، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کی جاۓ گی۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے تقریباََ 2.3 ملین ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اس کی مدد سے 2030 تک ترقی کی شرح 7.5 فیصد تک جانے کی توقع ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت پڑوسی ممالک مشرق و وسطیٰ، افریقہ اور وسط ایشیا کی ریاستوں میں سے گزنے والے ایک مختصرتجارتی راستے سے مستفید ہوں گے۔

توانائی کے شعبے پر اثرات:
پاکستان میں 2030 تک مجموعی توانائی کی کھپت میں 41 فیصد اضافے کا امکان ہے، کمرشل سیکٹر میں 414 فیصد اور صنعتی طلب میں 316 فیصد اضافہ ہو گا۔ ان شعبوں میں تقریباََ 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔

اس پروگرام کے تحت توانائی کی پیداوار کے قابلِ جدید اور غیر برقی وسائل کو اپ گریڈ کیا جاۓ گا۔ یہ توانائی صنعتی شعبوں کی پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی۔ نتیجے کے طور پر پاکستان میں بین الاقوامی زمارکیٹوں میں اپنی برامدات کو فروغ دینے میں کامیاب ہو جاۓ گا۔

زرعی شعبے پر اثرات:
زرعی شعبہ CPEC کی بدولت براہِ راست اور غیر مستقیم فوائد سے مستفید ہو گا۔ یہ زراعت کے شعبے کو فروغ دینے اور غیر ملکی ذخائر میں اضافہ کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اس منصوبے کے تحت پانی کے انتظام، مویشیوں، بیج کے معیار، ذراعت کے سامان، ٹیکنالوجی، تربیتی پروگراموں اور زراعت کے دیگر ذیلی شعبوں کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی جاۓ گی۔

اس منصوبے میں جغرافیائی معلوماتی نظام اور ریموٹ سینسنگ سسٹم کے اپ گریڈ کا حصہ بھی شامل ہے جس سے ماہی گیروں اور آبی زراعت کے شعبوں میں مسابقت بڑھے گی۔ پاکستان زرخیز زمین سے مالامال ہے لیکن ابتدا سے اس کی اصل صلاحیت کا استعمال نہیں کیا گیا۔

ان اصلاحات سے پودوں اور جانوروں کی بریڈز، ہارویسٹنگ ہینڈلنگ اور زرعی مصنوعات کو ذخیرہ کرنے میں بہتری آۓ گی۔

خصوصی اقتصادی زون پر اثرات:
CPEC چین کے ون بیلٹ اور ون روڈ منصوبے کی ایک توسیع ہے جو پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک میں اقتصادی زون قائم کیے جائیں گے۔

SEZ ایک ایسے علاقے کا نام ہے جہاں کاروبار اور تجارتی قوانین ملک بھر کے دیگر علاقوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ اقتصادی زون تجارت کو مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) کو اپنی طرف متوجہ کریں گے جس سے ملازمت کے موقع میں اضافہ ہو گا۔

پاکستان نے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے عالمی مالیاتی شعبوں اور بین القوامی سرمایہ کاروں کو دعوت دی ہے۔ یہ خصوصی اقتصادی زون پاکستان کے چھوٹے اور بڑے صنعتی شعبوں کے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔

چین کے اپنے 1800 SEZ اس شعبے مین ان کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاکستان ان خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے لیے چین کے کامیاب تجربے پر انحصار کر سکتا ہے۔

نتیجہ:
CPEC کے پاکستانی معیشت پر 3 اہم اثرات لکھے گئے ہیں- CPEC منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اچھا موقع ہے۔ یہ دنیا کی کچھ معروف معیشتوں تک ایک محفوظ اور مختصر تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان بین القوامی تجارت کا مرکز ہو گا۔

یہ پاکستان کے اقتصادی، سماجی، اور دفاعی شعبوں کو مضبوط کرے گا۔ مختصراََ CPEC میں چین کی حمایت پاکستان کی کامیابی کی کلید ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

CPEC کے پاکستانی معیشت پر 3 اہم اثرات” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں