کرونا وائرس کے بعد معاشی دنیا- مستقبل کتنا غیر یقینی ہے؟ 168

کرونا وائرس کے بعد معاشی دنیا- مستقبل کتنا غیر یقینی ہے؟

کرونا وائرس کے بعد معاشی دنیا- مستقبل کتنا غیر یقینی ہے؟

دسمبر کے آغاز میں دنیا بھر کے ماہرینِ اوقتصادیات نے 2020 کے لیے پالیسیوں کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن وہ آنے والی تباہی کے بارے میں ہرگز نہیں جانتے تھے۔ اگرچہ کاروباری ماحول کو متحرک سمجھا جاتا ہے لیکن کرونا وائرس دنیا نے کے ساتھ ساتھ اقتصادیات کو بھی الٹا پھیر دیا۔

2020 کی تیسری سہہ ماہی میں داخل ہوتے ہوۓ ہمیں اس سوال کا سامنا ہے کہ ہمارا معاشی مستقبل کیا ہے؟ موجودہ معاشی کساد بازاری کو دیکھتے ہوۓ بہت بڑے پیمانے پر بے یقینی دکھائی دیتی ہے۔

مستقبل میں کامیابی کا امکان خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ معیارِزندگی اور کورونا وائرس کی اگلی لہر صارفین کی مالی حیثیت کو تیزی سے کمزور کر سکتی ہے۔

مزید ازاں، معاشی، سیاسی اور تجارتی کشیدگی بینالاقوامی معاملات پر منفی طور پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ تاہم کوئی بھی ایسا بحران نہیں ہے جسکے بعد بحالی نہ ہو۔ اس کا روشن پہلو یہ ہے کہ ویکسین اور دواؤں کی صنعت، صنعتی سپورٹ کی پالیسوں کے ساتھ اندھیررے میں روشنی کا کام کر سکتی ہے۔

یہ دونوں عوامل اقتصادی سرگرمیوں کی تیز رفتار بحالی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر معمولی پالیسیوں نے بھی اقتصادی بحالی کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ پالیسیاں معیشت کو بچانے میں کامیاب ہوگئی ہیں جن سے لوگوں کا معیارِ زنندگی بہتر ہوا ہے، بینک دیوالیہ ہونے سے بچ گۓ ہیں جس سے معاشی بحالی میں مدد ملے گی۔

پالیسی بنانے والوں کو بلدتی غیریقینی صورتِ حال پر نظر رکھنی ہو گی۔ مالی اور مالیاتی پالیسیوں کو خصوصاََ بڑھتے افراطِ زر والے ممالک میں جاری رکھنا چاہیے۔

تو کرونا وائرس کے بعد معاشی دنیا- مستقبل کتنا غیر یقینی ہے؟ صحت کے خطرات کا انتظام کرتے ہوۓ، مستقبل میں کرونا کی مزید لہروں سے نپٹنے کے لیے ملک بھر میں ٹیسٹنگ اور آئسولیشن کو بڑھانا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

کرونا وائرس کے بعد معاشی دنیا- مستقبل کتنا غیر یقینی ہے؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں