عید سعید کی کچھ خاص روایات 133

عید سعید کی کچھ خاص روایات اور ان سے جڑی خوشیاں

عید سعید کی کچھ خاص روایات اور ان سے جڑی خوشیاں

خوشیاں

عید الفطر کی آمد آمد ہے اور ہر طرف اس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ عید کا تہوار اسلامی کلچر میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ بالخصوص برِ صغیر میں یہ تہوار بہت اہتمام اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے. پیار، محبت، خلوص، ایثار، اخوت اور بھائی چارے کے احساسات کا پرچار کرتے ہوئے یہ دن ہر طبقے میں خوشیاں بکھیرتا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ قربتیں اور محبتیں بڑھاتا ہے، وہیں اس سے جڑی کچھ خاص روایات اسکی خوشیوں کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ ایسی ہی کچھ روایات کا ہم آج ذکر کرنے جا رہے ہیں۔

عید کارڈ اور عیدی

رمضان کے آخری عشرے میں سہیلیوں میں عید کارڈ اور عیدی دینے کی بھی ایک بہت خوبصورت روایت ہے. اگرچہ موبائل فون کی آمد سے عید کارڈ دینے کا رواج تقریباً ختم ہو چکا ہے مگر یہ روایت پھر بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہے۔ عیدی کے طور پر سہیلیاں ایک دوسرے کے ساتھ چوڑیاں، کانٹے، انگوٹھیاں اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا تبادلہ کرتی ہیں۔ ہر لڑکی کو پہلے روزے سے ہی انتظار ہوتا ہے کہ میری فلاں سہیلی عیدی لے کر آئے گی اور میں اسے عیدی میں یہ دوں گی۔ منفرد اور پیارے پیارے عید کارڈ چٹ پٹے اور محبت بھرے اشعار سے سجا کر ایک دوسرے کو دئیے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ سب چیزیں بہت قیمتی نہیں ہوتیں مگر ان سے جڑی محبت اور خلوص انمول اور بیش قیمت ہے۔

عیدی

مہندی لگوانے کا اہتمام

چاند رات کی رونقیں اور جوش و خروش کی بھی الگ ہی داستان ہے۔ اس رات کی جو سب سے اہم سرگرمی ہوتی ہے وہ لڑکیوں کا مہندی لگانے کا اہتمام ہے۔ بہنیں، کزنیں، سہیلیاں، بھابیاں، ایک دوسرے کے ہاتھوں پیروں پر مہندی لگاتی ہیں۔ جس لڑکی کو اچھی مہندی لگانا آتی ہو سب اس کے گرد اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ ساری رات ہنسی مذاق اور خوش گپیوں میں گزر جاتی ہے۔ لڑکیاں مقابلہ کرتی ہیں کہ کس کے ہاتھ پر مہندی کا زیادہ رنگ آیا ہے اور کس پر کم اور کس کی مہندی کا ڈیزائن زیادہ پیارہ ہے۔

مہندی

نمازِ عید کا اہتمام

عید کے روز سب سے زیادہ اہتمام نمازِ عید کا کیا جاتا ہے۔ ہر گھر میں بچے، نوجوان اور بوڑھے، تمام لوگ صبح سویرے تیار ہو کر عید گاہ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ نہا دھو کر، نئے جوڑے پہن کر، خوشبو لگا کر، جب تمام لوگ عید گاہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو ایک ایسا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے جس کی مثال نہیں۔ پھر نماز کے بعد تمام لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔

نمازِ عید

میٹھے کا اہتمام

جہاں ایک طرف مرد نمازِ عید کی تیاری میں لگے ہوتے ہیں تو دوسری طرف گھر کی خواتین باورچی خانے کو میٹھے پکوانوں سے مہکا رہی ہوتی ہیں۔ مردوں کے نماز سے فارغ ہونے تک میٹھا پک کر تیار ہو چکا ہوتا ہے۔ عام طور پر سویاں، کھیر، شیر خرمہ، اور رس ملائی وغیرہ بنائی جاتی ہے۔ نماز کے بعد خاندان کے سبھی افراد مل کر میٹھا کھاتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں مٹھاس گھولتے ہیں۔

میٹھے پکوان

بچوں کی عیدی

بچوں کیلئے عید پر اور کچھ اہم ہو نہ ہو، عیدی بہت اہم ہوتی ہے۔ عیدی کے نام پر جو نقدی ملتی ہے، وہ بچوں کیلئے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ جیسے ہی گھر کے بڑے عید نماز پڑھ کر لوٹتے ہیں، بچے عیدی کا تقاضا شروع کر دیتے ہیں۔ عموماً بچوں کی عیدی کیلئے لوگ بینک سے بالکل نئے کرنسی نوٹ لے کر رکھ لیتے ہیں۔ یہ نئے اور کڑکتے نوٹ دیکھ کر بچوں کی خوشی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔

بچوں کی عیدی

خاندانی میل جول اور دعوتیں

عید کے روز کی سب سے اہم چیز خاندانوں کا میل جول اور کسی ایک جگہ پر جمع ہونا ہے۔ عام طور پر ہر خاندان کے سربراہ کے گھر سب کی دعوتِ طعام ہوتی ہے۔ تمام چچاؤں تایاؤں کی فیملیز جمع ہوتی ہیں۔ خوب ہلّہ گلّہ اور موج مستی ہوتی ہیں۔ بچے مل جل کر کھیل کود کرتے ہیں۔ پورا دن نہایت اچھے انداز میں مل جل کر منایا جاتا ہے۔

دعوتیں

ان سب روایات کی اہمیت اپنی جگہ، مگر عید کے تہوار کی جو اصل روح ہے وہ باہمی محبت اور ایثار ہے۔ آئیے اس عید پر تمام تفرقات اور اختلافات کو بھلا کر پھر سے پیار اور محبت کے پیغام کو عام کریں۔ اپنے پیاروں کو وقت دیں، رنجشیں مٹائیں اور محبتیں پھیلائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں